urdu poetry

لفظوں کے موتیوں کی غزل طلحہ کے قلم سے

میں جہاں بھی دیکھتا ہوں
مجھے وہ ہی نظر آت ہے

اتنے سارے چہروں میں
اُسی کی صورت بھات ہے

کچھ اور یاد رہتا ہی نہیں اُس کے سوا
جب بھی سوچتاہوں میری سوچ کا مہور بن جات ہے

اُس کے بغیر اب جیا نہیں جاتا
اُس کی یاد پل پل تڑپات ہے

کبھی دُور نہیں جاتی میرے خیالوں سے وہ
میں جہاں بھی جاوٗں میرے پاس آ جات ہے

میں جب بھی ہاتھ اُٹھاوٗں رب کے سامنے
وہ میری دُعاوں میں آجات ہے

اے کاش کے وہ ایسے مل جائے مجھے طلحہ
جیسے پھول کو تتلی مل جات ہے

مزید پڑھیں۔ تازہ لائنز تنویر کے قلم سے اہل ذوق ملاحظہ کیجئے